طبی ماہرین


ادویہ ساز کمپنیوں اور طبی ماہرین نے گھروں سے کام کرنے کے دوران یکسوئی نہ ہونے اور مختلف دوسرے مسائل کے ساتھ مشترکہ حکمتِ عملی کے فقدان کو کرونا ویکسین کی تیاری میں بڑا چیلنج قرار دے دیا۔

برطانوی دوا ساز کمپنی آسٹرا زینیکا کے مطابق کرونا وائرس کی ویکسین کی تیاری کے دوران ملازمین کو گھر پر ایسا ماحول فراہم کرنا جس میں وہ اپنی پوری توجہ کام پر مرکوز رکھ سکیں، ایک بڑا چیلنج تھا۔

کمپنی نے ملازمین کے بچوں کے لیے 80 کے قریب ٹیچرز کی خدمات حاصل کیں اور اس کے علاوہ بچوں کے لیے آن لائن جادو اور یوگا کلاسز کا بھی انتظام کیا تاکہ کرونا کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال میں والدین کی مدد کی جاسکے۔

غیرملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے آسٹرا زینکا کے شعبہ ایچ آر کی سربراہ فیونا سککونی کا کہنا تھا کہ یہ بات بالکل واضح تھی کہ چھوٹے بچوں کے ساتھ گھر پر کام کرنا والدین کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔

کرونا وائرس نے جہاں معمول کی زندگی کو متاثر کیا ہے وہیں کمپنیاں، اسکول، اور چائلڈ کیئر سینٹرز بند ہونے سے والدین کی مشکلات میں اضافہ ہوا اور انہیں اس تمام صورت حال کے ساتھ کام کرنے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی طرح کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے جرمن سافٹ ویئر کمپنی ایس اے پی نے عملے کے بچوں کے لیے جادو، کوڈنگ، یوگا، گٹار اور بریک ڈانس پر آن لائن اسباق فراہم کیے اور کمپنی اب پارٹنر آرگنائزیشن کے ساتھ مل کر باقاعدہ اسکولنگ اسکیم پر کام کر رہی ہے۔

جرمن کمپنی ایس اے پی کے تھامس اینجسٹین جو صارفین کو معاونت فراہم کرنے والے شعبے کے سربراہ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کمپنی کی جانب سے یہ تمام سہولیات فراہم کرنے سے اب میں اپنی ٹیم پر توجہ مرکوز کرسکتا ہوں، ورنہ میرا آٹھ سالہ بیٹا مجھے کام کے دوران مسلسل پریشان کرتا تھا۔

کرونا کی موجودہ صورت حال پر لندن اسکول آف اکنامکس سے تعلق رکھنے والی ایسٹر کینکونو کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کو مختلف طریقوں سے اپنے عملے کی مدد کرنے کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے کیونکہ معمولات زندگی بحال ہونے میں وقت لگے گا۔

ایسٹر کینکونو کے مطابق کمپنیوں کے اقدامات کو ملازمین کے لیے زیادہ کام کرنے کی صورت میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے ملازمین کو بھی مشورہ دیا کہ نئے ماحول میں کام اور گھر کے مابین کوئی واضح فرق نہیں ہے، لہذا ملازمین کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ ایسے ماحول میں کس طرح بہتر کام کرسکتے ہیں۔

انہوں نے برطانوی کمپنی آسٹرا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی کو معلوم تھا کہ ان کے 8 ہزار 300 ملازمین میں سے 1 ہزار ایک سو ملازمین کو بچوں کی دیکھ بھال میں مدد کی ضرورت ہے اور کمپنی نے اس حوالے سے اقدامات کیے تاکہ ملازمین کی مدد کی جاسکے۔

آسٹرا زینکا کی ایچ آر کی سربراہ فیونا سککونی نے بتایا کہ اس غیر معمولی حالات میں کمپنی کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر ملازمین شکر گزار ہیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *