کورونا وائرس


دنیا بھر میں کورونا وائرس پر تحقیقاتی کام جاری ہے، حال ہی میں کورونا وائرس کے دماغ پر اثرات سے متعلق ایک تحقیق نے ماہرین کو پریشان کردیا ہے۔

امریکا کی ییل یونیورسٹی میں کی گئی ایک تحقیق میں کہا گیا کہ کورونا وائرس دماغ کے خلیوں کو اپنے زیر اثر لے لیتا ہے۔

ماہرین نے اسے دماغ کے خلیوں کی ہائی جیکنگ قرار دیا ہے جس میں وائرس دماغ کے خلیوں کو ہائی جیک کر لیتا ہے تاکہ وہ خود ان کی نقول تیار کرسکے، ان کی موجودگی کی وجہ سے آس پاس کے دماغی خلیات آکسیجن کی شدید کمی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

تحقیق کے دوران اس بات کے بھی واضح ثبوت ملے کہ کرونا وائرس دماغ کے حصے میں میٹا بولک تبدیلی کے ساتھ اس کے ارد گرد کے خلیات کو بھی متاثر کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس انفیکشن کو اے سی ای 2 کو بلاک کر کے روکا جاسکتا ہے۔

اس تحقیق کے لیے ماہرین نے چوہوں کے ایک گروہ میں ان کے صرف پھیپھڑوں میں جنیاتی طور پر اے سی ای 2 میں تبدیلی کی، جبکہ دوسرے گروہ کے صرف دماغ میں یہ عمل کیا۔

جب وائرس ان چوہوں میں داخل کیا گیا تو جن کے دماغ میں انفیکشن کا اثر تھا، ان کے وزن میں تیزی سے کمی ہونے لگی اور 6 دن میں وہ مر گئے، اس کے برعکس پھیپھڑے متاثر ہونے والے چوہوں کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔

جب پہلے گروہ کے چوہوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تو سائنس دانوں کو معلوم ہوا کہ وائرس کورٹیکل نیورونز تک پہنچ گیا تھا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق سے یہ ثابت ہوا کہ نیورونز، کرونا وائرس (سارس کووڈ 2) کے حملے کا ہدف بن سکتے ہیں اور اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں، ایسے میں مقامی طور پر خون کی فراہمی رک جاتی ہے اور خلیات مر جاتے ہیں۔

اس سے قبل ڈاکٹرز کچھ وقت تک تو یہ سمجھتے رہے کہ کرونا وائرس ایک رینج تک نیورولوجیکل بے ترتیبی، دماغ کے پروٹین پر مشتمل حصے میں خرابی، مرکزی اعصابی نظام میں سوزش، خون کے جمنے کے سبب دماغ میں خون نہ پہنچنے سے ہونے والے اسٹروک، تکلیف یا کمزوری سے عضو کے مفلوج ہونے کا سبب بنتا ہے، تاہم اس کی اصل وجہ نامعلوم تھی۔

اس کا سبب یہی براہ راست انفیکشن تھا جسے اب ماہرین نے معلوم کرلیا ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *