قومی اسمبلی


قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو قومی احتساب بیورو (نیب) اور برطانوی کمپنی براڈ شیٹ کے درمیان معاملات کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

پی اے سی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ہوا جہاں براڈ شیٹ سمیت دیگر معاملات کا جائزہ لیا گیا اور اس دوران سینیٹر شیری رحمٰن نے براڈ شیٹ اور نیب کے درمیان معاہدے کے معاملے پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

چیئرمین پی اے سی رانا تنویر نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے آڈیٹر جنرل کو براڈ شیٹ معاملے کی انکوائری کا حکم دے دیا۔

رانا تنویر نے کہا کہ نیب 19 جنوری کو براڈشیٹ کے معاملے پر بریفنگ دے اور بتایا جائے کہ براڈ شیٹ کی خدمات کیوں اور کب حاصل کی گئیں اور کتنی رقم دی گئی۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی اے سی رانا تنویر نے کہا کہ براڈشیٹ معاملے پر 19 جنوری کو نیب اور آڈیٹر جنرل سے رپورٹ طلب کی ہے اور آڈیٹر جنرل کو براڈشیٹ معاملے کی انکوائری کی ہدایت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بتایا جائے کہ براڈشیٹ کی خدمات کب حاصل کی گئیں، معاہدہ منسوخ کب ہوا اور کتنی ادائیگی کی گئی۔

رانا تنویر نے کہا کہ وزیر اعظم کہتے ہیں براڈشیٹ معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ معاہدہ کس نے منسوخ کیا تو وزیر اعظم کو ہم تحقیقات کر کے بتا دیں گے۔

کابینہ اجلاس میں اعتراضات سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ پی اے سی پر کابینہ اجلاس میں الزامات کے معاملے پر سیکریٹری کابینہ کو خط لکھا جائے گا اور پہلے یہ طےکریں گے کہ کابینہ میں یہ بات ہوئی بھی ہے یا نہیں۔

پی اے سی کے اجلاس کے کابینہ اجلاس میں پی اے سی ارکان پر الزام کے معاملے پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن شیخ روحیل اصغر نے کمیٹی سے واک آؤٹ کیا اور کہا کہ اب ہم کس منہ سے آدٹ اعتراض نمٹائیں گے۔

اراکین نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں الزام کے معاملات پر احتجاج کیا اور انکوائری کا مطالبہ کیا اور کہا کہ الزام لگایا گیا کہ پیسے لے کر آڈٹ اعتراضات نمٹائے جاتے ہیں۔

چیئرمین پی اے سی کا کہنا تھا کہ جب موجودہ حکومت کا آڈٹ شروع ہوا تو وزرا کی چیخیں نکل آئیں۔

اس موقع پر حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ میں بھی کابینہ کے اجلاس میں موجود ہوتا ہوں، کابینہ میں جو بات ہوئی وہ ان کیمرہ اجلاس میں بتاؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ پی اے سی کی کارکردگی اور ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں، یہ بات ہوئی تھی کہ پی اے سی اختیارات سے تجاوز کرتی ہے اور یہ بات ہوئی تھی کہ اے جی پی آر سے پیسے دیے بغیر بل کلئیر نہیں ہوتے۔

جس کے بعد کمیٹی کا اجلاس ان کیمرہ کر دیا گیا۔

چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ کابینہ سیکریٹری کو طلب کر کے وضاحت طلب کی جائے گی، موجودہ پی اے سی نے اب تک 5 سو ارب روپے کی ریکوری کروائی ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *