مکہ مکرمہ


سعودی حکومت نے مملکت میں مقیم ایسے افراد سے نمٹنے کی بھرپور تیاری کر لی ہے جنہوں نے حج کا پرمٹ حاصل کیے بغیر حج کی سعادت حاصل کرنے کا پروگرام بنا رکھا ہے۔

اس حوالے سے حج سیکیورٹی فورس کے کمانڈر میجر جنرل زاید الطویان نے کہا ہے کہ اس سال حج موسم کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہے ۔ انہوں نے حج کے دوران سخت حفاظتی انتظامات کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

میجر جنرل الطویان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ اس سال مختلف ملکوں کے شہری محدود تعداد میں فریضہ حج ادا کریں گے۔ کسی بھی سعودی شہری یا مقیم غیرملکی کو اجازت نامے کے بغیر حج مقامات پر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ خلاف ورزیاں کرنے والوں کو سزائیں دی جائیں گی۔

حج کے موقع پر کرفیو نہیں لگایا جائے گا البتہ سیکیورٹی اہلکار حج اجازت نامے نہ رکھنے والوں کو حج مقامات پر جانے سے روکنے کے لیے مکہ کے باہر چیک پوسٹوں پر روکیں گے۔

حج سیکیورٹی فورس ضرورت پڑنے پر بعض علاقوں میں لاک ڈاوٴن یا بعض شاہراہوں کو بند کرسکتی ہے۔ مذکورہ اقدام اس وقت کیا جائے گا جب کسی علاقے سے غیرقانونی طریقے سے حج پر جانے والوں کی بھیڑ دیکھنے میں آئے گی یا بعض شاہراہوں سے حج مقامات پر دراندازی کا سلسلہ مشاہدے میں آئے گا۔ دراندازوں کو فوری سزائیں دی جائیں گی۔ حج مقامات پر بغیر اجازت نامے والے افراد کی دراندازی روکنے کے لیے سیکیورٹی فورس پٹرولنگ کرے گی۔

انہوں نے سعودی شہریوں اور مقیم غیرملکیوں سے اپیل کی کہ وہ اس سا ل مقررہ حج کوٹے کی پابندی کریں- طائف پولیس کے مطابق بغیر اجازت نامے والوں کو حج مقامات پر جانے سے روکنے کے لیے سیکیورٹی چیک پوسٹیں قائم کردی گئی ہیں۔ حج روڈ سکیورٹی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ مکہ کے اطراف تمام چیک پوسٹیں موثر کردی ہیں۔ محکمہ پاسپورٹ نے پھر انتباہ کیا کہ حج ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے ہوں گے اور انہیں قید کی سزائیں دی جائیں گی جو ٹرانسپورٹ کمپنی لائسنس کے بغیر کسی کو حج کے بغیر لے جائے گی اسے سزا دی جائے گی۔

یاد رہے کہ حج مقامات مشاعر مقدسہ (منیٰ ، عرفات اور مزدلفہ) میں داخلے پرپابندی کا نفاذ اتوار 19 جولائی سے ہو گیا ہے جو 12 ذوالحجہ تک جاری رہے گا۔ وزارت داخلہ نے 12 جولائی کو جاری اعلامیے میں کہا تھا کہ بغیر حج پرمٹ کے مشاعر مقدسہ جانے والوں پر10 ہزارریال جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ خلاف ورزی دہرانے پر جرمانے کی رقم دوگنا کر دی جائے گی۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *