وزیر اعظم کے معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان


وزیر اعظم کے معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ ڈریپ نے دو کورونا ویکسین کی منظوری دے دی ہے لیکن ملک کی تمام آبادی کے لیے ویکسین کی فراہمی آسان نہیں ہوگی۔

میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے ابتدائی طور پر کورونا ویکسین کی 2 کروڑ خوراکیں حاصل کی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا ویکسین سائنو فارم اور کنسائنو کمپنیز سے ویکسین کی فراہمی پر بات جاری ہے جبکہ سائنو فارم کی افادیت 80 فیصد ریکارڈ کی گئی اور یہ ویکسین کئی ممالک میں استعمال ہورہی ہے اور ویکسین کے ٹرائل میں 17 ہزار 500 افراد نے حصہ لیا۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ ملک کی تمام آبادی کے لیے ویکسین کی فراہمی آسان نہیں ہوگی۔

انہوں نے عوام تک ویکسین کی فراہمی سے متعلق کہا کہ پہلے مرحلے میں فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز اور اس کے بعد دیگر طبی عملے اور 65 سال کی عمر کے افراد کو ویکسین کی خوارک دی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد 60 سال کی عمر کے افراد اور پھر بتدریج 18 سال کی عمر تک کے افراد کو ویکسین کی خوراک فراہم کی جائیں گی یعنی ویکسین بچوں کو نہیں صرف بالغ افراد کو لگے گی۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے زور دیا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے فراہم کی جانے والی ویکسین مفت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پرائیوٹ سیکٹر یا صوبائی حکومت پر ویکسین کے حصول کے لیے کوئی پابندی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں ویکسین کی فراہمی شروع ہوجائے گی اور مارچ تک ویکسین کے 10 لاکھ ڈوز فراہمی کے قابل ہوجائیں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس کی دوسری لہر جاری ہے تاہم گزشتہ چند روز سے یومیہ کیسز کی تعداد میں کچھ حد تک کمی دیکھی گئی ہے تاہم اموات کی تعداد درجنوں میں رپورٹ ہورہی ہے۔

سرکاری سطح پر اعداد و شمار کے حوالے سے قائم کردہ پورٹل کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے مزید ایک ہزار 772 کیسز سامنے آئے جبکہ 48 افراد زندگی کی بازی ہار گئے تاہم 2 ہزار 46 لوگ خوش نصیب تھے جو اس وبا سے شفایاب ہوگئے۔

یوں اب تک ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 5 لاکھ 24 ہزار 783 ہوگئی جس میں سے 91.2 فیصد یعنی 4 لاکھ 78 ہزار 517 مریض صحتیاب ہوگئے جبکہ اموات کی تعداد 11 ہزار 103 تک پہنچ گئی، اس طرح ملک میں فعال کیسز کی تعداد 35 ہزار 163 رہ گئی۔

یاد رہے کہ ملک میں اس عالمی وبا کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو رپورٹ ہوا تھا اور جون میں اس کا پھیلاؤ عروج پر جا پہنچا تھا تاہم جولائی سے کیسز میں کمی آتی گئی اور ستمبر تک بہتری کا یہ سلسلہ جاری رہا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *