ہائی کورٹ


ملک بھر کی ہائی کورٹس اور کچہریوں میں ججز کی ایک ہزار سے زائد آسامیاں خالی،زیرِالتوا مقدمات کی تعداد بھی 17 لاکھ سے تجاوز کرگئی، سول اور فیملی کورٹس کو ججز کی سب سے زیادہ کمی کا سامنا ہے، اس صورتحال پر اسلام آباد ہائیکورٹ بھی سخت برہم ہوئی اوروزارت قانون سے تفصیلات مانگ لیں۔

رواں سال 31 مئی تک کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر کی ہائی کورٹس اور کچہریوں میں مجموعی طور پر 1019 آسامیاں خالی موجود ہیں اور17 لاکھ سے زائد مقدمات زیرِالتوا ہیں۔

اسلام آباد کی 25 عدالتوں میں ججز تقرری اور 40 ہزار سے زائد مقدمات فیصلوں کے منتظرہیں۔ ادھر سندھ میں ججز کی 36، بلوچستان میں 62، خیبرپختونخوا میں 84 اور پنجاب میں 786 آسامیاں خالی ہیں۔ پنجاب میں 11 لاکھ سے زائد زیرالتواء مقدمات میں سے9 لاکھ 23 ہزار سے زائد سول اور فیملی مقدمات شامل ہیں جبکہ 645 سول اور فیملی کورٹس ججوں سے ہی محروم ہیں۔

خیبرپختون خوا میں سول اور فیملی ججز کی 82، بلوچستان میں 48 اور سندھ میں 14 عدالتیں عدم تعیناتیوں پر غیر فعال ہیں۔خصوصی عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ وزارت قانون نے یقینی بنانا ہے کہ کسی بھی عدالت میں جج کی نشست خالی نہ ہو،کسٹم ٹربیونل کا اضافی چارج کس قانون کے تحت دے دیا جاتا ہے؟

عدالت نے وزارت قانون سے خالی آسامیوں اور تعیناتی سے متعلق اقدامات کی رپورٹ آئندہ ہفتے طلب بھی کرلی ہے۔

 



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *