لبنان کا شہر بیروت


لبنان کے شہر بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد 157 ہو گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بیروت بندرگاہ پر دھماکوں سے ہلاکتوں کی تعداد ایک سو ستاون ہو گئی، 5 ہزار سے زائد زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، صورت حال پر قابو پانے کے لیے فوج کو مکمل اختیارات دے دیے گئے۔

لبنانی حکام نے بیروت بندرگاہ کے منیجر سمیت 16 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، دھماکوں میں لاپتا افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔ لبنانی حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

دوسری جانب دھماکوں کے بعد حکومت مخالف مظاہرے بھی پھوٹ پڑے ہیں، پارلیمنٹ کے قریب مظاہرین اور سیکورٹی فورسز میں جھڑپیں ہوئیں، مظاہرین نے دھماکے حکومتی غفلت کا نتیجہ قرار دے دیا، فرانسیسی صدر نے بھی بیروت کا دورہ کیا اور سانحے کی عالمی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ 4 اگست (منگل) کو لبنان کے درالحکومت بیروت کی بندرگاہ پر تباہ کن دھماکے ہوئے تھے، حکام کا کہنا تھا کہ دھماکے 2013 سے غیر محفوظ طریقے سے اسٹور کیے گئے 2 ہزار 750 ٹن امونیم نائٹریٹ کی وجہ سے ہوئے۔

دھماکے سے دارالحکومت کے پورے اضلاع تباہ ہو گئے ہیں، مکانات اور کاروبار ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے ہیں، ابھی بھی درجنوں افراد لا پتا ہیں۔

اس تباہی کے بعد سے 2 اہل کار مستعفی ہو چکے ہیں، ممبر پارلیمنٹ مروان حمادے نے بدھ کے روز اپنے عہدے سے علیحدگی اختیار کی، جب کہ اردن میں لبنان کے سفیر ٹریسی شمعون نے جمعرات کو اپنا عہدہ چھوڑا، ان کا کہنا تھا کہ تباہی کا تقاضا ہے کہ قیادت میں تبدیلی کی جائے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *