قبر کھودنے کی سزا


انڈونیشیا میں کورونا وبا کی روک تھام کے لیے عوامی مقامات پر فیس ماسک پہننے کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو ’قبر‘ کھودنے کی سزا دی جانے لگی۔

انڈونیشیا کے مشرقی صوبے جاوا کے نگابیتن گاؤں میں 8 افراد نے چہرے پر ماسک پہننے سے انکار کیا تو انہیں کورونا متاثرین کے لیے قبریں کھودنے کی سزا دی گئی لیکن ان میں سے صرف 2 افراد ہی قبریں کھودنے کے لیے پہنچے اور اپنی سزا مکمل کی۔

سیریم کے ضلعی سربراہ سوونو کا کہنا ہے کہ ’اس وقت قبر میں کھدائی کرنے والے صرف تین افراد ہی موجود ہیں لہٰذا میں نے سوچا کہ ماسک نہ پہننے والوں کو ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار کرسکتا ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ ’امید ہے اس سزا سے عوام فیس ماسک پہننے کی پابندی کریں گے اور کورونا وبا کے کیسز کی تعداد میں کمی آئے گی۔

ضلعی سربراہ کا کہنا ہے کہ جو رہائشی کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے انہیں جرمانے یا کمیونٹی سروسز کے تحت سزائیں دی جائیں گی۔

واضح رہے کہ انڈونیشیا میں کورونا کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جس کے سبب حکام کو شہریوں کی حفاظت کے لیے اس طرح کے اقدامات اٹھانا پڑ رہے ہیں۔

انڈونیشیا میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 3 ہزار 636 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ کیسز کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 18 ہزار 332 تک جاپہنچی ہے جبکہ 8 ہزار 723 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل جکارتہ میں فیس ماسک پہننے کی خلاف ورزی کرنے والوں کو موت کی ہولناکی کا مزہ چکھانے کے لیے تابوت میں لیٹنے کی انوکھی سزا دی گئی تھی جس کا آغاز 3 ستمبر کو ہوا تھا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *