محمد بن سلمان


امریکی عدالت نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو طلب کرلیا۔

واشنگٹن کی ایک عدالت نے سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی کے سابق عہدہ دار سعد الجبری پر قاتلانہ حملے کے الزام میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت 13 دیگر سعودی شخصیات کو طلب کیا ہے۔

واشنگٹن کی ایک عدالت نے آج (پیر کو) سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور 13 دیگر سعودی شخصیات سے سابق انٹلیجنس عہدہ دار سعد الجبری کے قتل کی کوششوں سے متعلق سوالوں کے جوابات کے لئے عدالت میں پیش ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک فیصلہ جاری کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق طلب کیے جانے والوں میں “محمد بن سلمان” کے قریب ترین شخصیات میں سے تین افراد “احمد العسیری” ، “بدر العساکر” اور “سعود القحطانی” بھی شامل ہیں۔

ان افراد میں سے” هما یوسف الراجحی” اور” لیلی ابوالجدایل”امریکہ میں مقیم ہیں۔

یادرہے کہ الجبری گذشتہ جمعرات کو واشنگٹن میں واقع ایک امریکی عدالت میں محمد بن سلمان کے ہاتھوں انھیں قتل کرنے کی سازش کے الزام میں مقدمہ کرنے کے لئے پیش ہوئے تھے۔

الجبری کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ نے 2018 میں ایک دہشت گرد ٹیم کو کینیڈا بھیجا تھا تاکہ مجھے اسی طرح قتل کردیں۔ جس طرح “جمال خاشقجی” کو 2 اکتوبر 2018 کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا تھا۔

کینیڈا کے ایک ذریعہ نے کل بتایا کہ سعد الجبری کے قتل کی نئی کوشش کی گئی تھی، جس کے بعد ان کے گھر پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور اسلحہ سے مکمل طور پر لیس پولیس آفیسرز ان کی حفاظت کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ کہا جاررہا ہے کہ سعد الجبری ، جو جون 2017 میں بن سلمان کی بغاوت سے قبل محمد بن نایف کے نائب تھے اور سعودی خفیہ ایجنسی کے سربراہ تھے ، کے پاس ایسے دستاویزات موجود ہیں۔ جن کی وجہ سے محمد بن سلمان ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔

الجابری نے واشنگٹن ڈی سی کی ایک عدالت میں محمد بن سلمان اور ان کے چوبیس ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔

الزام ہے کہ ان افراد نے ایک خصوصی دستہ کینیڈا روانہ کیا، جن میں جائے وقوعہ سے ثبوت و شواہد مٹانے والے ماہرین بھی شامل تھے۔

الزام عائد کیا گیا ہے کہ محمد بن سلمان انہیں قتل کرنے کے لیے وہی ٹیم روانہ کی، جس نے ترکی میں جمال خاشقجی کو ہلاک کیا تھا۔الجابری کے وکلاء کا کہنا ہے کہ قتل کا یہ منصوبہ اس وقت آشکار ہوا۔ جب کینیڈا کی بارڈر پولیس نے اس مشتبہ ٹیم کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی کیونکہ ان افراد کا کہنا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو نہیں جانتے۔

عدالت میں جمع کرائی گئی 107 صفحات پر مبنی درخواست میں یہ بھی لکھا ہے کہ کینیڈین باڈر پولیس نے ان افراد سے دو بیگ بھی برآمد کیے، جن میں فرانزک ٹولز شامل تھے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *