جسٹس قاضی فائز عیسیٰ


فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کی منی ٹریل کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے سرینا عیسیٰ کی لندن جائیدادوں کی جمع کرائی گئی منی ٹریل کا جائزہ لیا اور پھر 21 اگست کو سیکشن 122 اور 111 کے تحت 2 نوٹس بھیجے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ آپ کی مجموعی آمدن لندن جائیدادیں خریدنے کے لیے کافی نہیں تھی۔

ایف بی آر ٹیم کے مطابق سرینا عیسٰی کی ٹیکس والی آمدنی 93 لاکھ 75ہزار روپے تھی جبکہ لندن کی تینوں جائیدادوں کی قیمت 10 کروڑ 46 لاکھ روپے تھی۔ذرائع کے مطابق جسٹس قاضی فائز کی اہلیہ نے ایف بی آر کے شوکاز اور ایف بی آر کی جانب سے 21 اگست کو بھیجے گئے خطوط کا جواب بھی جمع کرا دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سرینا عیسیٰ کی جانب سے جواب میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر نے میری 2243 کنال زمین کی زرعی آمدن شامل نہیں کی، ایف بی آر نے کلفٹن کی جائیدادوں سے کرائے کی مد میں وصول کی گئی آمدن کو شمار نہیں کیا۔

ایف بی آر نے یہ تو تسلیم کرلیا ہے کہ میں ایک ورکنگ وومن ہوں لیکن میری کراچی کے امر یکن سکول میں 38 سالہ ملازمت جوشادی سے بھی پہلے کررہی تھی کی آمدن کو شامل نہیں کیا۔

سرینا عیسیٰ کا ایف بی آر کو جواب میں یہ بھی کہنا تھا کہ میری انکم ٹیکس ریٹرن کی تفصیلات بھی نہیں دی گئیں۔مجھے یہ نہ پتہ آپ نے 93 لاکھ 75 ہزار931 کے اعدادوشمارکہاں سے لیے ہیں، جائیدادوں کی 10 کروڑ 46 لاکھ قیمت کا تعین آپ نے کس بنیا دپر کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے سرینا عیسیٰ نے ایف بی آر کی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے بیٹے ارسلان عیسٰی کی لیگل ٹیم نے وکالت سے بھی معذرت کر لی ہے۔ سرینا عیسٰی نے ایف بی آر کو اپنے جواب میں یہ بھی کہا ہے کہ ایف بی آر کی ٹیم میرے گوشواروں میں بھی رد وبدل کر سکتی ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *