سندھ ہائی کورٹ میں قومی اسمبلی ارکان کی تنخواہ و مراعات بڑھانے کا بل چیلنج کردیا گیا ہے


سندھ ہائی کورٹ میں قومی اسمبلی ارکان کی تنخواہ و مراعات بڑھانے کا بل چیلنج کردیا گیا ، جس میں کہا گیا موجودہ صورتحال میں اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہ و مراعات کالعدم قراردی جائیں۔

قومی اسمبلی ارکان کی تنخواہ ومراعات بڑھانے کے بل کیخلاف درخواست دائر کردی گئی، درخواست شہری محمود اختر نقوی نے سندھ ہائیکورٹ میں دائر کردی ، جس میں وزیراعظم بذریعہ پرنسپل سیکرٹری، فوادچوہدری کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور اور سیکرٹری قومی اسمبلی، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری پارلیمانی کمیٹی قومی اسمبلی و دیگر کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

دائر درخواست میں کہا گیا وزیر مملکت علی محمد خان نے تنخواہ و مراعات کےلیے بل پیش کیا، بل کے تحت ہر رکن قومی اسمبلی کو سالانہ 25ایئر ٹکٹ استعمال کرنے کا اختیار دیا گیا، یہ ایئرٹکٹ رکن پارلیمنٹ کےاہلخانہ کو بھی استعمال کرنے کا اختیار دیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایئرٹکٹ استعمال نہ کرنے کی صورت میں متبادل رقم حاصل کرنے کی چھوٹ دی گئی، موجودہ صورتحال میں اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہ و مراعات کالعدم قراردی جائیں۔

یاد رہے اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہ اور الاؤنس سے متعلق ترمیمی بل متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا، بل کے مطابق ارکان پارلیمنٹ کو 25 ٹریول ووچرز ملیں گے، ارکان پارلیمنٹ کو پہلے سالانہ 25 ایئر ٹکٹس کی اجازت تھی، اس سہولت سے رکن پارلیمنٹ کی بیوی اور 18 سال سے کم عمر کے بچے مستفید ہوں گے۔

چیئرمین کمیٹی فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ بزنس کلاس ایئر ٹکٹ کو ٹریول ووچرز میں تبدیل کیا گیا ہے، ٹریول ووچرز کی سہولت سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *