کورونا وائرس


ماہرین نے کہا ہے کہ بعض لوگوں میں کورونا وائرس کی علامات شدید ہوتی ہیں اور بعد میں ذرا کم اور نرم، اسکے علاوہ کئی ایسے ہوتے ہیں جنہیں وائرس لاحق ہونے کے باوجود ان میں کبھی علامات ظاہر ہی نہیں ہوتیں۔

اب سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں ایسے لوگوں کی حتمی شرح بتا دی ہے۔ طبی ماہرین نے لوگوں کو خطرناک وائرس سے بچنے کے لیے اس حوالے سے زبردست معلومات فراہم کی ہیں ۔

اٹلی کے سائنسدانوں نے ہزاروں لوگوں پر کی جانے والی اس تحقیق کے نتائج میں بتایا ہے کہ کورونا وائرس کے 40 فیصد متاثرہ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن میں کبھی اس کی علامات ظاہر ہی نہیں ہوتیں۔ یعنی بخار ، گلے میں خراش اور نزلہ یا طبیعت کا بگڑنا ، یہ چیزیں کسی شخص میں نہ ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ اسے کورونا وائرس لاحق نہیں ۔ 

پیڈوا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے یہ تحقیق اٹلی کے شہر وینس کے قریب واقع وو نامی اس قصبے کے لوگوں پر کی جہاں کورونا وائرس سب سے پہلے پہنچا اور پہلی موت بھی اسی قصبے میں ہوئی تھی ۔

اس قصبے کے تمام 4200 رہائشیوں کے ٹیسٹ کیے گئے، جن میں پتا چلا کہ ان میں 40فیصد ایسے افراد کے جسم میں بھی اینٹی باڈیز تھیں، جن میں کبھی اس کی کوئی علامت ظاہرہی نہیں ہوئی۔

تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ پروفیسر اینڈریا کریسنٹی کا کہنا تھا کہ ”ہماری اس تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کریں تو ان ’خاموش مریضوں‘کے ذریعے وائرس کا پھیلاﺅ روک سکتے ہیں۔“

واضح رہے کہ اس سے قبل آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدان اپنی ایک تحقیق میں بتا چکے ہیں کہ 80 فیصد لوگوں کو وائرس ایسے افراد سے منتقل ہوتا ہے جن میں اس کی کوئی علامات ہی ظاہر نہیں ہوتیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *