اپوزیشن جماعتیں


کچھ دن سے اپوزیشن جماعتیں بہت متحرک تھیں، اسکی وجہ یہ تھی کہ ریاست پاکستان کو اپوزیشن کی ضرورت پڑگئی تھی۔

اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف بلز کو بلیک میلنگ کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا اور نیب قانون میں 34 پنکچر لگاکر خود کو کرپشن کیسز سے اور اپنی دولت بچانے کی کوشش کی۔

 ایف اے ٹی ایف بلز پر اپوزیشن کا خیال تھا کہ ان کی Win Win سچوایشن ہے، اگر نیب قوانین میں ترامیم کے بدلے بلز پاس ہوجاتے ہیں تو ان پر کرپشن کیسز ختم ہوجائیں گے ورنہ دوسری صورت میں اگر اپوزیشن حکومت کا ساتھ نہیں دیتی اور ایف اے ٹی ایف بلز پاس نہیں ہوتے اور اس صورت میں پاکستان بلیک لسٹ میں چلاجاتا ہے تو اپوزیشن یہ کہے گی کہ دیکھیں عمران خان کی وجہ سے پاکستان بلیک لسٹ میں چلا گیا۔

تانیہ ایدریس کے استعفے پر تبصرہ کرتے ہوئے صدیق جان نے کہا کہ تانیہ ایدریس جہانگیر ترین گروپ کی تھیں اور جہانگیرترین ہی انہیں لیکر آئے تھے لیکن جہانگیرترین کا مخالف گروپ انہیں کام نہیں کرنے دے رہا تھا۔ پاکستان میں جو بھی باہر سے یہاں کام کرنے یا انویسٹمنٹ کرنے آتا ہے اسے بہت ذلیل کیا جاتا ہے، بیوروکریسی اسکی راہ میں رکاوٹیں ڈالتی ہے۔

تانیہ ایدریس کام کررہی تھیں یا نہیں اسکے بارے میں دو رائے ہوسکتی ہیں کہ یا تو وہ کچھ نہیں کررہی تھیں یا کررہی تھیں تو اسکی اس طرح سے کوریج نہیں ہوتی تھی۔

وزیراعظم ہاؤس میں ایسے لوگ موجود ہیں جو بہت زیادہ کام کرتے ہیں لیکن اپنا کام میڈیا پر ہائی لائٹ نہیں کرتے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *