اسرائیلی وزیر اعظم


فلسطینی سیکرٹری داخلہ یوسف حرب نے انکشاف کیا ہے کہ صہیونی حکام نے فلسطینیوں کے بیرون ملک سفر پرپابندی کے لیے ایک نیا ہتھکنڈہ اختیار کیا ہے اور فلسطینیوں نو مولود بچوں کے ہمراہ بیرون ملک سفر سے روکا جا رہا رہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابقانہوں نے بتایا کہ رام اللہ سے بیرون ملک سفر کرنے کے لیے گذرگاہ پرآنے والے کئی خاندانوں کو یہ کہہ کر جانے سے روک دیا گیا کہ ان کے ساتھ چھوٹے بچے ہیں، جن کی یہاں پر رجسٹریشن نہیں ہوئی ۔

پہلے ان کی رجسٹریشن کرائیں اس کے بعد انہیں بیرون ملک سفر کی اجازت دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ غرب اردن میں بیرون ملک سفر کرنے والے شہریوں کو تمام ضروری قانونی دستاویزات مہیا کی ہیں مگرصہیونی حکام کم سن بچوں کے والدین اور ان کے اقارب کو بیرون ملک جانے سے روک رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکام اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان یہ طے ہوچکا ہے کہ بیرون ملک سفر کے لیے رام اللہ وزارت داخلہ کی طرف سے جو ضروری کوائف فراہم کیے جائیں گے، اسرائیل ان پر اعتراض نہیں کرے گا اور فلسطینیوں کو آزادانہ بیرون ملک آمدورفت کی اجازت ہوگی۔

اس معاہدے کے باوجود صہیونی حکام فلسطینیوں کو بیرون ملک سفر سے روکنے کے لیے حیلے بہانے تلاش کررہے ہیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *